خدا کی بندی
Poet: آصف جانف By: آصف جانف, Islamabadتم مجھے ایک پھول دو
میں تمہیں کانٹوں سے بچاؤں گا
تم مجھے دل دو
میں تم سے اپنا دل نہیں مانگوں گا
تم میرا ایک دفعہ نام لو
میں سینکڑوں سانسیں لوں گا
تم مجھے دیکھ کر مسکراؤ
میں تمہیں دیکھ کر نہیں روؤں گا
تم مجھے ایک حوصلہ دو
میں جینا شروع کروں گا اور ہزاروں سال زندہ رہوں گا
تم مجھ سے بات کرو
میرے کان جشن منائیں گے
تم مجھے ایک بار چھو لو
میں تمہیں بار بار نہیں چھوؤں گا
تم میری طرف ایک بار پیار سے دیکھو
میں تمہاری آنکھوں پر بے شمار نظمیں لکھوں گا
تم مجھے چائے پر بلاؤ
میں تمہیں تم پر لکھی گئی نظمیں سناؤں گا
تم مجھے کچھ بوسے دو
میں تمام عمر تمہیں پیار دوں گا
اے خدا کی بندی
تم یہ نظم پڑھو
میں تمہارے لیے ایک اور نظم لکھتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






