خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiخانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گا
پیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گا
بھیگے منظر میں مرا عکس دکھائی دے گا
بارشوں میں جو نہاؤ گے تو یاد آؤں گا
ہوگی محسوس تمہیں میری وفا کی خوشبو
تم کوئی خوشبو لگاؤ گے تو یاد آؤں گا
جب بھی آئے گا تمہیں سجنے سنورنے کا خیال
پاس آئینے کے جاؤ گے تو یاد آؤں گا
روٹھ جانے پہ کوئی جب نہ منائے گا تمہیں
اور تم سب کو مناؤ گے تو یاد آؤں گا
اپنی تنہائی کو تم جب بھی سکوت شب میں
میری غزلوں کو سناؤ گے تو یاد آؤں گا
بھولنے کے لئے مجھ کو مری یادوں کے نقوش
صفحۂ دل سے مٹاؤ گے تو یاد آؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






