حیف تو نے نہیں سمجھا مجھے انساں جاناں
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaحیف تو نے نہیں سمجھا مجھے انساں جاناں
بندہٴ عشق ہوں میں اور پریشاں جاناں
”زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
میں نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں“
غم و اندوہ میں جیئیں یہ ہماری قسمت
ہے یہی اپنے لیے عظمتِ ذی شاں جاناں
پھول کے مثل رہو شاد و شگفتہ ہر دم
زندگی صبح کی صورت ترے شایاں جاناں
اب بھی آمادہٴ الفت ہے مری جراتِ شوق
اب بھی ہو سکتا ہوں سو جان سے قرباں جاناں
اب بھی طالب ہے مری آنکھ ترے حسنِ وفا کی
میری جانب بھی ہو اک رمزہٴ مژگاں جاناں
اک نظر اپنے خلیلی# کی طرف ہو تاکہ
جگمگائے مری الفت کا شبستاں جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






