حقیقت سے کبھی آنکھیں چرا کر کچھ نہیں ملتا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگحقیقت سے کبھی آنکھیں چرا کر کچھ نہیں ملتا
خیالوں میں کوئی دنیا بسا کر کچھ نہیں ملتا
نہ پوچھو دوستو مجھ سے محبت کا مری حاصل
کہ راہِ عشق میں سب کچھ لٹا کر کچھ نہیں ملتا
وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں جہاں معدوم ہو منزل
کہ یونہی گرد راہوں میں اڑا کر کچھ نہیں ملتا
کبھی نہ وقت سے پہلے شجر پہ پھیکنا پتھر
کہ شاخوں سے ثمر کچے گرا کر کچھ نہیں ملتا
جو عالی ظرف دشمن ہو اسی سے دشمنی رکھنا
کسی کم ظرف کو نیچا دکھا کر کچھ نہیں ملتا
یہ کہہ کر باپ کو رخصت کیا اولاد نے گھر سے
کہ بوڑھے بیل کو چارہ کھلا کر کچھ نہیں ملتا
خدا سے التجا ہے کہ میسر گور ہو جاۓ
یہاں اونچے محل دیپک بنا کر کچھ نہیں ملتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






