حسرت کسی کی دل میں جگاتی نہیں ہوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaحسرت کسی کی دل میں جگاتی نہیں ہوں میں
غیروں سے اب تو ہاتھ ملاتی نہیں ہوں میں
بن کر جو کانٹے میرے ہی سپنے بگاڑ دیں
پلکوں یہ ایسے رنگ سجاتی نہیں ہوں میں
لے لے نہ جان وقت کے موسم کو دیکھ کر
اب پھول پر ھی تتلی بناتی نہیں ہوں میں
اے فیس بک کے دوستوں تم سے گلہ نہیں
سچ ہے کہ وقت پر کبھی آتی نہیں ہوں میں
اب مرتے مرتے موت کا بھی ڈر نہیں رہا
اب زندگی کا ساتھ نبھاتی نہیں ہوں میں
وشمہ یوں تیرے لمس کی خوشبو بکھر گئی
بالوں میں گل یہ کلیاں سجاتی نہیں ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






