جیسے میرے سر پہ کوئی آسماں ہونے لگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاجیسے میرے سر پہ کوئی آسماں ہونے لگا
میرے دل کی دھڑکنوں میں وہ جواں ہونے لگا
پہلے پہلے ساتھ تھے میرے جفا کے سلسلے
پیار کا رشتہ مگر اب بیکراں ہونے لگا
میں نے اپنے دل پہ اس کا نام دیکھو لکھ لیا
وہ تو میری زندگی کی داستاں ہونے لگا
کیسے اس کے نام میں نے زندگی کو کر دیا
جو کبھی نا مہرباں تھا مہرباں ہونے لگا
اس نگر کے لوگ سارے خود میں جل کے مرگئے
جب امیر شہر کے گھر میں سماں ہونے لگا
لوگ ملنے آ رہے ہیں اجنبی کے بھیس میں
کوئی ہے اس میں مرا، وشمہ گماں ہونے لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






