جیسے بھی حالات بدلتے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ارم مشتاق, Lahoreجیسے بھی حالات بدلتے
لیکن میرے ساتھ وہ چلتے
جانے کس کی نظر لگی ہے
جل گیا گلشن پھولتے پھلتے
مٹ گئیں ہاتھوں کی ریکھائیں
ان کے ہجر میں ملتے ملتے
تنہائی میں سرد رتیں بھی
کٹ جائیں گی جلتے جلتے
جس نگری کے وہ باسی تھے
ہم اس سے کس طور نکلتے
اپنی صورت بھول گئے ہم
روز نیا اک بھیس بدلتے
جو کرتے تھے گل افشانی
وہ بیٹھے ہیں زہر اگلتے
گلشن میں رت کیسی آئی
مالی ہیں خود پھول مسلتے
چھاؤں دیتے پیڑ یہاں پر
دیکھ رہا ہوں جلتے بلتے
جانے کس دم شام ہو جاۓ
زیست کا سورج ڈھلتے ڈھلتے
بدل گئے سب دیپک راہیں
لوگ ملے جو چلتے چلتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






