جہاں کے رنج سہے ہے گزارا ہے کہ نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجہاں کے رنج سہے ہے گزارا ہے کہ نہیں
خذاں تھی زیست میں یہ سہارا ہے کہ نہیں
پڑا جو وقت تو سب نے ہی ساتھ چھوڑ دیا
ہے کون دوست جہاں میں ہمارا ہے کہ نہیں
گرا دیا کسی گہری سی کھائی میں تم نے
تھا جس پہ مان ہمیں وہ سہاراہے کہ نہیں
اب اعتبار کروں بھی تو کس طرح تم پر
مکاریوں کو تمہا ری مارا ہے کہ نہیں
ہو دشمنوں سے ملے یہ بھی ہم نے جان لیا
انھیں جو چھپ کے کیا وہ اشارا ہے کہ نہیں
ہزار بار کسی سے فریب کھایا ہے
نہ دوستی کو نبھائیں نہ پایا ہے کہ نہیں
چلو یہ اچھا ہوا آنے والے طوفاں سے
بچے گی جان کہ وشمہ کنارا ہے کہ نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






