جو میرا رب ہے وہ تیرا رب ہے
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiجو میرا رب ہے وہ تیرا رب ہے
جو میرا تیرا وہ سب کا رب ہے
اسی نے دنیا کو ہے بنایا ، بنا کے اس کو پھر ایسے بچھایا
بسائی اس میں سب اپنی مخلوق، جو ہر رنگ میں الگ الگ ہے
وہی صرف جس سے مانگیں ہے سب ، وہی صرف ایک ہی دینے والا
جہاں پہ رحمت کے در وہ کھولے ، وہی پہ اس کا غضب غضب ہے
وہ دے تو اسکا شکر بہت ہے ، نہ دے تو اس میں چھپی ہے حکمت
صرف اسی کو خیال میرا ، کہ اس کا ہر دینا عجب عجب ہے
بنا مانگے دینا ہے اس کی قدرت ، خیال رکھنا ہے اسکی فطرت
نوازہ اس نے ہمیشہ مجھ کو، پکارا اس کو میں نے جب جب ہے
نبی دیا اس نے ہم کو ایسا ، کہ اس کے جیسا کوئی نہیں ہے
ہے اس کی چاہت ہماری چاہت ، کہ اس کا درود لب لب ہے
جو میرا رب ہے وہ تیرا رب ہے
جو میرا تیرا وہ سب کا رب ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






