جس سے گر عشق کا اظہار نہیں ہو سکتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجس سے گر عشق کا اظہار نہیں ہو سکتا
وہ مرے من کا بھی سردار نہیں ہو سکتا
جو چراتا ہے کسی اور کے شعر و نغمے
وہ محبت کا کلا کار نہیں ہو سکتا
رات کی آنکھ میں سپنے ہیں سکوتِ شب کے
آج دل خواب سے بیدار نہیں ہو سکتا
پھر کسی غیر کی بانہوں میں محبت دے دوں ؟
یہ گنہ مجھ سے تو دو بار نہیں ہو سکتا
یہ سجائی تھی ترے پیار میں بزمِ الفت
پر تو اردو کا وفادار نہیں ہو سکتا
"فیس بک ٹائم" پہ ملتے ہیں دوبارہ جاناں!
بزمِ اشعار سے انکار نہیں ہو سکتا
اتنا پیتے ہیں یہاں جام سے جامِ وشمہ
میری آنکھوں سا تو دربار نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







