جذبہ ء اشتیاق بڑھاتے تو بات تھی
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiجذبہ ء اشتیاق بڑھاتے تو بات تھی
وہ تشنگیء شوق بجھاتے تو بات تھی
گر پھول زلفوں میں وہ سجاتے تو بات تھی
رخ سے نفابِ زلف ہٹاتے تو بات تھی
بڑھتے یہ خرخشے نہ کبھی ہوتی دشمنی
بگڑی ہوئی وہ بات سجھاتے تو بات تھی
ایسے نہیں وہ آئے بلایا ہے پیار سے
ملنے چلے وہ آپ ہی آتے تو بات تھی
ایسے ہی ہوتا پیار محبت کا پھر یقیں
تحفہ کوئی مرے لیے لاتے تو بات تھی
آنی ہے موت زندگی رہنی نہیں سدا
اپنے وطن پہ جان لٹاتے تو بات تھی
سوچا ہے دوسروں کا ہی شہزاد فائدہ
آنگن میں اپنے شمع جلاتے تو بات تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






