جب دُور ہم سے یار ہو تو کیا کرے کوئی
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarجب دل ہی بے قرار ہو تو کیا کرے کوئی
جب دُور ہم سے یار ہو تو کیا کرے کوئی
تقدیر نہ ملے تو دلوں کا ملن ہے کی
عالم فلکیات ہو تو کیا کرے کوئی
دل کو سکوں ملے تو زرا تُجھ کو سوچ لوں
روٹی کی فکریات ہوں تو کیا کرے کوئی
شاید تو قبول فقیری نہ کر سکے
زمانہ کے لوازمات ہوں تو کیا کرے کوئی
ھم تم کو چاہتے ہیں یہ اور بات ہے مگر
خیالوں میں ہراک بات ہو تو کیا کرے کوئی
کس طرف جا رہا ہے زمانہ خبر نہیں
جب مئے ہی مشروبات ہو تو کیا کرے کوئی
برداشت کر لو تم بھی جو کچھ ہوں کہ رہ
مانو کے خیالات ہوں تو کیا کرے کوئی۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






