جاگ کر ہر شب محبّت کے زمانے ڈھونڈنا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiجاگ کر ہر شب محبّت کے زمانے ڈھونڈنا
جو ادھورے رہ گئے تھے وہ فسانے ڈھونڈنا
خود بخود محفوظ ہو جائے گی تیری آبرو
مغربی تہذیب کے چھوڑو ٹھکانے ڈھونڈنا
نسلِ نو میں حق پرستی کی صفت آ جائے گی
اپنے بچوں کے لئے پاکیزہ کھانے ڈھونڈنا
قابلیت ہے اگر تجھ میں تو کچھ بن کر دکھا
طنز کرنا تو ہے بچنے کے بہانے ڈھونڈنا
ہم نہ ہوں گے پر ہماری داستاں رہ جائے گی
یاد ہم آ جائیں تو موسم سہانے ڈھونڈنا
کیسا وہ دلچسپ منظر تھا مِرے جانِ عزیز
چھیڑے تھے ساحل پہ جو دلکش ترانے ڈھونڈنا
زخمی زخمی رات ہے اور چاند بھی تنہا سا ہے
آج وشمہ یادوں کے قصّے پرانے ڈھونڈنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






