تیرے پیار کی مستی
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGتیرے پیار کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
دوستی کی سر مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
یہ خواب ہے نشہ ہے حیات
تیرے پیار کا مزا ہے حیات
تیرے حُسن کی سر مستی ہے سب
ورنہ تو بے مز ا ہے حیات
تیرے عشق کی کشتی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے پیا ر کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
ہم نے تو حسن یار کی پرستش کی ہے
تیرے قدموُں کی رفتار کی پرستش کی ہے
میں ناچوُں تیرے ماتھے کا جھوُمر بن کر
ہم نے تو زلف یار کی پرستش کی ہے
تیرے دیدارکی خرمستی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے پیار کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے وصل کی تمنا بے تاب کرے
نشے میں چوُر تیرے نہیں کی شراب کرے
میری حیات کا حاصل ہے کہ اب
میرا فسانہ تیرے حُسن کی کتاب کرے
ارمانوں کی بستی میں ہم جھوم کے گائیں
تیرے پیار کی مستی میں ھم جھوُم کے گائیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







