تیرے دیدار کی خواہش مجھے یوں کھینچ لائی ہے
Poet: عبادت By: عبادت, کراچیتیرے دیدار کی خواہش مجھے یوں کھینچ لائی ہے
کہ نظر کرنے کو سنگ اپنے چند اشعار لائی ہے
مشک ادم سے در و بام مہک کے جاتے ہیں
لفظ انکار سے سفاک سہم جاتے ہیں
گل رعنا ہو کے تعبیر ہو یا شہر ناز
جھک کے کہیں افلاک خوب ہیں تیرے انداز
میں بس اتنا کہوں گی اب محبت آگ سی ہے
جسے تم عشق ہو سمجھے محض یہ دل لگی ہے
الف اللہ میں رانی سے جو شاموں نہ ملے
کہیں سسکیاں سنے اور کہیں دیپ جلے
اور تیرے نام سے ہی جلتی رہے شمع دل
لوگ صحراؤں میں کرتے پھریں رقص بسمل
اور کردار وہ جو ٹیپو کا نبھایا تو نے
کیسے بنتا ہے اداکار یہ بتایا تو نے
دل ویران میں یہ کیسی تو نے حدت بھر دی
اوکے شد بھائی پھر وں رانجھا رانجھا کر دی
بدگمانی سے جو تیرے دل کا برا حال بنا
وصل میں بنتی رہی اور وہ ہجر جال بنا
تیری خواہش میں ہم پھر بدنام بنے عام ہوئے
آگ بدلے کی لگی ہے اور نمک حرام ہوئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






