تیری یاد کی خوشبو
Poet: عظمیٰ منصور By: عظمیٰ منصور, Srinagarتیری خوشبو سے مہکا ہوا موسم نہیں دیکھا
غم کے لمحوں کے بعد کا کوئی پر سکون لمحہ نہیں دیکھا
تیرے بغیر جینے کی اذیت ابھی باقی ہے
تیرے بنا کبھی دل کا سنورنا نہیں دیکھا
تنہائی میں گزرتی ہے زندگی میری
کبھی خوابوں کا حقیقت میں اترنا نہیں دیکھا
آنکھوں میں جو نمی ہے، وہ تیرے پیار کی نشانی ہے
دعا میں تیرے لیے آنسو بہانا نہیں دیکھا
جدائی کی راتوں میں بکھرتے ہیں یہ ارمان
تیرے بغیر کبھی دل کا سنبھلتا نہیں دیکھا
چاندنی راتوں میں بھی دل اداس رہتا ہے
تیرے بغیر کبھی چاند کا مسکرانا نہیں دیکھا
یادوں کی بارش میں یہ دل جلتا رہتا ہے
تیرے بغیر کبھی لمحوں کا ٹھہرنا نہیں دیکھا
تیری خاموشی میں بھی ایک کہانی بستی ہے
کبھی لفظوں میں تیری چپ کا بیان نہیں دیکھا
تیرے بغیر جینے کی کوشش بے محال
کبھی دل کا تجھے بھول جانا نہیں دیکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






