تیری محفل میں عاشقی گم صم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیری محفل میں عاشقی گم صم
کیا سناؤں میں دل لگی گم صم
چشم حسرت سے بہہ رہا ہے لہو
غم کے دریا میں اب نمی گم صم
کیسی دوری ہے آج کل مجھ سے
کیسی رنجش ہے دشمنی گم صم
جب سے شامل ہوں بزم یاراں میں
تب سے زندہ ہوں دوستی گم صم
سب ستارے اداس بیٹھے ہیں
چاند نکلا ہے چاندنی گم صم
کشت امید اب بھی باقی ہے
اس دریچے میں تیرگی گم صم
غم کا موسم چھپائے بیٹھا ہے
سارا گلشن ہی اک کلی گم صم
زخم زندہ ہیں آج بھی وشمہ
اس محبت کی روشنی گم صم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






