تیری دنیا کی اگر ہم بھی حقیقت ہوتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاتیری دنیا کی اگر ہم بھی حقیقت ہوتے
ہم بھی اس کارِ محبت میں سلامت ہوتے
وقت احساس کی دولت سے تو معمور نہ تھا
تیری محفل میں بھلا کیسے قیامت ہوتے
ہوتی دنیا میں مرے نام کی شمع روشن
تیری ہستی کی اگر چشمِ عنایت ہوتے
کون نفرت کی ہواؤں کو ہوائیں دیتا
گر نہ یو رسم و روایت کے کراتب ہوتے
ان اندھیروں میں اگر دیپ جلائے جاتے
زندگی تیری تمنا میں سلامت ہوتے
تیرے گلشن میں اگر درد نہ کھلتے وشمہ
اپنے دل پر نہ کہیں داغ، محبت ہوتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






