تمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوں
Poet: عظیم By: عظیم, Bahawalpurتمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوں
تمہیں سلیقے سے میں دیکھ بھال سکتا ہوں
ابھی تو صرف بگاڑا ہے تیری عادت کو
میں تجھ کو خود میں ابھی اور ڈھال سکتا ہوں
جو تیری ذات سے مجھ کو ملے ہیں اے جاناں
میں ان غموں کو کلیجہ میں پال سکتا ہوں
مرے خدا کی خدائی اگر نواز دے تو
سمندروں میں بھی رستا نکال سکتا ہوں
میں اپنے عہد کا جگنو ہوں دیکھنا اک دن
بڑے بڑوں کو میں حیرت میں ڈال سکتا ہوں
اگر ملے جو غم روزگار سے فرصت
تو میں بھی ذہن کا دریا کھنگال سکتا ہوں
پڑے گی دھوپ جو تم پر تو ابر بن کر کے
تمہارے سر سے میں سورج کو ٹال سکتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






