تمہاری یاد کا منظررہی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتمہاری یاد کا منظررہی ہوں
کہ جیسے روح کو میں تر رہی ہوں
ہزاروں جستجوؤں کے جلو میں
منازل کا ہر اک منظر رہی ہوں
تھی بے معنی یہ میری زندگانی
ذرا دیکھو تو یہ محور رہی ہوں
ہماری بے قراری کے موافق
اگر بن جائے تو بہتر رہی ہوں
عجب سی دل کو راحت دے گیا وہ
کہاں ہو تم کہ ہر پتھررہی ہوں
ابھر آتا ہے دل میں درد میرا
نہیں سنتا دلِ بنجر رہی ہوں
کئی سے ڈھونڈ لا تقدیرمیری
مگر دل کا وہی منظررہی ہوں
ابھی الجھی ہوئی تعبیر یں ہے
تصور میں تھے شب ہی بھررہی ہوں
مرے اشعار کے زینے پہ پھر دیکھ
تصوف کے مضامیں کر رہی ہوں
تمہاری ذات اے وشمہ وفا کی
فضا میں لن ترانی بھر رہی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






