تمہاری راہ میں دیکھو چراغوں کو جلاتی ہوں
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanسفر سے لوٹ کر آ جاؤ پلکوں کو بچھاتی ہوں
تمہاری راہ میں دیکھو چراغوں کو جلاتی ہوں
مری دنیا میں آ کر پھر کہیں تم لوٹ نہ جانا
مری دنیا میں آ جاؤ محبت سے بلاتی ہوں
تمہیں چاہا ہے دل نے میری چاہت کو نہ ٹھکراؤ
تمہاری یاد میں دن رات میں آنسو بہاتی ہوں
تمہیں دل کے فسانے تو سنانا ہیں بہت مشکل
مگر شعروں میں اپنی داستان غم سناتی ہوں
تمنا ہے تمہارے شہر میں ہی زندگی اپنی گزاروں میں
خیالوں میں بڑا ہی خوبصورت گھر بناتی ہوں
مرا دل مجھ سے کہتا ہے کہ تم میرے تھے میرے ہو
تمہیں میں سوچ کے چپکے ہی چپکے گنگناتی ہوں
کبھی سارہ سے اظہار وفا تم بھی تو کر ڈالو
میں اپنے پیار کو کب اے مرے ہمدم چھپاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






