ترے نام پہ لکھ ہی دی میں نے کتاب جاناں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمنزل تک پہنچا ہی دیا میں نے خواب جاناں
ترے نام پہ لکھ ہی دی میں نے کتاب جاناں
فکر نہیں مجھ کو کیا ہو گا میرا اب حساب جاناں
شادمانی نصیب ہو گی یا آئے گا عذاب جاناں
میری کومل جاناں کے لئے ہیں کچھ کومل گلاب جاناں
ناز کیوں نہ کروں میں میرا ہے وہ انتخاب جاناں
ذکر ترا ، چرچہ ترا ہے اِس میں شباب جاناں
وفاؤں کے لفظ ہیں سارے پڑھ لو کوئی باب جاناں
کومل پَری کوئی خاص کیسی لگی دینا کوئی جواب جاناں
نہال خوش ہے نہال شاد ہے اب نہیں اصطراب جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






