تجھ سے ملوں تو ساری فضا شبنمی لگے
Poet: کلثوم انور By: وشمہ خان وشمہ, pakistanتجھ سے ملوں تو ساری فضا شبنمی لگے
خوشبو ، بہار ، رنگ ، محبت ، نئی لگے
پژمردگی سی روح پہ چھانے لگی ہے دوست
ملتے رہا کرو کہ حسیں زندگی لگے
ٹالی نہیں گئی ہے تمہاری کوئی بھی بات
اپنی خوشی سے بڑھ کے تمہاری خوشی لگے
رک رک کے چل رہی ہیں ہوائیں بھی سانس بھی
یوں ہے کہ تو نہیں ہے تو دھڑکن تھمی لگے
خود سے بچھڑ گئے ہیں تمہاری تلاش میں
اور یوں کہ اپنا آپ ہمیں اجنبی لگے
یہ جو نہیں رہی ہے زمانے کی کچھ خبر
دل میں کسی کی یاد کی محفل سجی لگے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






