تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی
Poet: بانو صایمہ By: مصدق رفیق, Karachiتتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی
میں شہر ننگ میں بھی ردا ڈھونڈھتی رہی
وہ تتلیوں میں مست بہت مطمئن سا تھا
جس کو چمن میں میری صدا ڈھونڈھتی رہی
رت کی طرح مزاج بدل کر چلا گیا
وہ بے وفا تھا اس میں وفا ڈھونڈھتی رہی
تخت منافقت پہ وہی حکمران تھا
بہر خلوص جس کو سدا ڈھونڈھتی رہی
جوش جنوں کے ہاتھ جسے دان کر چکی
پھر میں ضرورتاً وہ انا ڈھونڈھتی رہی
دل پر لگے جو زخم کہاں مندمل ہوئے
میں شہر شہر پھرتی دوا ڈھونڈھتی رہی
بستی میں ایک بھی نہ وفادار مل سکا
میں در بدر بھٹکتی وفا ڈھونڈھتی رہی
سیل بلا بھنور میں جہاں چھوڑ کر گیا
میں ناخدا کے ساتھ خدا ڈھونڈھتی رہی
دیوار دل سے میری چرا کے وہ لے گیا
جگ مگ سی روشنی وہ دیا ڈھونڈھتی رہی
میری ہتھیلیوں پہ رچے زخم زخم رنگ
بانوؔ میں ان میں بوئے حنا ڈھونڈھتی رہی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






