ب یہ ہونٹوں پہ دعا ہے تو ، دعا دیتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا صورتِ ابر مرے سر پہ صدا دیتا ہے
اب یہ ہونٹوں پہ دعا ہے تو ، دعا دیتا ہے
اپنے پیکر میں جیا کرتی ہے دنیا لیکن
وہ عجب شخص ہے وہ مجھ کو صدا دیتا ہے
پاس رہ کر بھی رفاقت نہیں مل پاتی کبھی
دور رہ کر بھی مجھ کو وہ دعا دیتا ہے
اس سے پہلے کہ کوئی حرف دے لب پر دستک
وہ مری ان کہی ہر بات سنا دیتا ہے
جب بھی ہوتی ہے شبِ زیست میں تاریکی سی
بن کے مہتاب مری شب میں ضیا دیتا ہے
سارے جذبوں کی محبت کی چمک ہو جن میں
اُن ستاروں سے مری مانگ بھرا دیتا ہے
زخم کیسا ہی ہو دیتا ہی نہیں درد مجھے
درد سے پہلے ہی وہ اُسکی دوا دیتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ تھم جائیں گی سانسیں میری
کوئی پل کو جو وہ خاموش ہُوا دیتا ہے
کیوں نہ وشمہ میں غرور اپنے مقدر پہ کروں
اِس قدر پیار بھلا کس کو ملا دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






