بےمنزل مسافر
Poet: غزنوی By: انس محمود, میانوالیوہ بےمنزل مسافر تھاکسی کےحسن کےدام میں جاالجھا
دلوں کاصیادبغیرقفس کےقیدبےمثال دےگیا
نرم سریرحریرلطیف جسم اسکاچہرہ بدرِمنیراسکا
اسکے حسن کااثرمیری روح کےتحت الثریٰ تک پہنچ گیا
اسےدیکھاتوزیست نےمانگی یہ دعااےاجل توقیامت سےپہلےنہ آ
لذتِ ذوقِ اسیری کی ایک اورمثال دے گیا
جمع کی مدحت فصاحت ٫بلاغت تیرےحسن کی خاطر
دستِ فہم سےبھی آگےتیراجمال گزرگیا
پہلے ہی سخت تھامیں مصیبتوں کےشکنجےمیں جکڑا ہوا
آیاخیال اسکاتنہائ کاایک اورعذاب دےگیا
تمام عمربھرجس دُرِنایاب کی پوجاکی ہم نےغزنوی
اُس متاعِ جاں کولےکوئی اور دیارِغیرگیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






