بےحد ضروری سمجھ کے(٣)
Poet: SAVERA By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMپابند سلاسل وہ رہےاورہم پابہ زنجیر
سمجھوتہ آخرہو گیاحالات کی مجبوری سمجھ کے
برسوں سےوہ تو ہمیں سمجھاتےآئےتھےلیکن
ہم کو بھی سمجھ آگئی ان کی معذوری سمجھ کے
ہے سچ کےآنکھ اوجھل تو پہاڑ بھی اوجھل
ہم بھی ہوئے دوردلوں کی دوری سمجھ کے
ہجراں نصیب کوبھلا کیا ہے دید سےکام
وہ تو ہجر کا طوق پہنےہےمہجوری سمجھ کے
وہ خودکو سارے جہاں کا شاعراعظم سمجھتےرہے
ہم نےانکو چھوڑ دیا ان کی مغروری سمجھ کے
اب کیافکر اس کہانی کی جس کا کوئی نہ انجام ہے
ہم نےبھی پڑھنا چھوڑدیا اسےادھوری سمجھ کے
اب کہتےہیں اوہ جانےوالےذرا پلٹ کےدیکھنا
پلٹےجوہم تو پتھر سےنہ ہوجاہیں جی حضوری سمجھ کے
اک دن سال کااصغر کا بھی اچھا گزرجائے گا
یہی سوچ کر بھیجاہے کارڈ ضروری سمجھ کے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






