بہت دن ہو گئے ساقی کا مئے خانہ نہیں دیکھا
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaبہت دن ہو گئے ساقی کا مئے خانہ نہیں دیکھا
بہکتے رند اور گردش میں پیمانہ نہیں دیکھا
شبِ دیجور میں جلتے دیے دیکھے بہت، لیکن
شمع کے گرد رقصاں کوئی پروانہ نہیں دیکھا
خدا جانے ہر اک شیٴ پر یہ کس کی بد دعا ٹھہری
چمن میں نرگس و سوسن کا شرمانا نہیں دیکھا
نہ جانے ان کی افتادِ جفا کا کیا ہوا ہوگا
بہت دن سے انھوں نے کوئی دیوانہ نہیں دیکھا
انھیں تو چہرئہ گل پر خراشوں کی شکایت ہے
بھلا کیا اس نے میرے دل کا ویرانہ نہیں دیکھا
خلیلی# ہم نے ان کی خوش بیانی تو بہت
زباں کے ساتھ لیکن دل کا نذرانہ نہیں دیکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






