بہت بیکار موسم ہے مگر کچھ کام کرنا ہے
Poet: عامر By: عامر, Jacobabadبہت بیکار موسم ہے مگر کچھ کام کرنا ہے
کہ تازہ زخم ملنے تک پرانا زخم بھرنا ہے
ابھی سادہ ورق پر نام تیرا لکھ کے بیٹھا ہوں
ابھی اس میں مہک آنی ہے تتلی نے اترنا ہے
بڑھے جو حبس تو شاخیں ہلا دینا کہ اب ہم کو
ہوا کے ساتھ جینا ہے ہوا کے ساتھ مرنا ہے
مبادا اس کو دقت ہو نشانے تک پہنچنے میں
سو میں نے پھول سے دیوار کے رخنے کو بھرنا ہے
یہی اک شغل رکھنا ہے اذیت کے دنوں میں بھی
کسی کو بھول جانا ہے کسی کو یاد کرنا ہے
کوئی چہرہ نہ بن پایا مقدر کی لکیروں سے
سو اب اپنی ہتھیلی میں مجھے خود رنگ بھرنا ہے
کوئی رستہ ملے کیوں کر مرے پائے خجالت کو
یہاں تو پاؤں دھرنا بھی کوئی الزام دھرنا ہے
وہ ہر لمحہ دعا دیتے ہیں لمبی عمر کی تابشؔ
مجھے لگتا ہے پیاروں کو بھی رخصت میں نے کرنا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






