با وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں
Poet: ناصر By: ناصر, Multanبا وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں
اے جفا دوست یہ کیا دیکھ رہا ہوں تجھ میں
تو نے اب تک مجھے کانٹوں کے سوا کچھ نہ دیا
میں تو اک پھول کی مانند کھلا ہوں تجھ میں
تو وہ دریا ہے کہ جس کا کوئی ساحل ہی نہیں
میں سفینے کی طرح ڈوب گیا ہوں تجھ میں
میرا دعویٰ ہے کہ تو نے بھی نہ دیکھے ہوں گے
ایسے جلوے کہ جو میں دیکھ چکا ہوں تجھ میں
تجھ سے بچھڑے تو زمانہ ہوا لیکن اب تک
یاد آتا ہے کہ کچھ بھول گیا ہوں تجھ میں
تیرے چہرے سے ہٹائی نہیں جاتیں نظریں
کیا خبر دیر سے کیا دیکھ رہا ہوں تجھ میں
پاس اتنا کہ تری سانس سے ٹکراتی ہے سانس
دور اتنا کہ تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تجھ میں
بے وفا تیری زباں پر یہ وفا کی باتیں
ایسا لگتا ہے کہ میں بول رہا ہوں تجھ میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






