باخبر کو خبر نہیں ہوتی
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAہر دعا بااثر نہیں ہوتی
ہر دوا کارگر نہیں ہوتی
دل کو تسخیر کرنے والوں کی
معجزوں پر نظر نہیں ہوتی
بوئے اخلاص سے جو عاری ہو
دوستی معتبر نهیں هوتی
جو اندھیروں کو گود میں لے لے
وہ سحر تو سحر نہیں ہوتی
جس جگہ راج ہو تصنع کا
سادگی پھر ادھر نہیں ہوتی
دن کی ہر اک بلا ٹلی سر سے
منزلِ شب ہی سر نہیں ہوتی
ان کو ٹھوکر ضرور لگتی ہے
جن کی نیچے نظر نہیں ہوتی
ایک عالم سے باخبر دیکھا
جس کو اپنی خبر نہیں ہوتی
اِبنِ مریم کی پھر ضرورت ہے
پھر دوا کارگر نہیں ہوتی
میری نظروں سے رہ نہیں گذری
یاد ان کی جدھر نہیں ہوتی
عشق ہوتا نہ گر زمانے میں
حسن کی یہ قدر نہیں ہوتی
یاد آئی کسی کی شدت سے
ورنہ یوں آنکھ تر نہیں ہوتی
بےخبر کو بھی تھی خبر لیکن
باخبر کو خبر نهیں هوتی
جن کے گھر میں چراغ ہو مفتی
تیرگی ان کے گھر نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






