بات کرنی تو پھر نبھانی بھی
Poet: ابن مفتی سید ایاز مفتی By: ابن مفتی سید ایاز مفتی , houstonرات بھی نیند بھی کہانی بھی
کیا برا ہے جو ہو جوانی بھی
دیکھ لیں گے تمہارے وعدوں کو
آج بچپن ہے کل جوانی بھی
کچھ گھڑی اور بھی ٹہر جاؤ
چاندنی رات ہے ، سہانی بھی
سوچ لو عشق ہے مذاق نہیں
بات کرنی تو پھر نبھانی بھی
گن تو دل پھر بھی انکے گاتا ہے
چاہے ہو لاکھ ، بدگمانی بھی
کہہ سکے کچھ نہ دیکھ کر ان کو
بارہا دل میں ہم نے ٹھانی بھی
پوچھتے کیا ہو زندگی کیا ہے
درسِ عبرت ہے یہ کہانی بھی
انکی آنکھوں سا وہ خمار کہاں
قطرہ قطرہ شراب چھانی بھی
دل بچا کے کرو گے کیا مفتیؔ
سلطنت دی ، تو راجدھانی بھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






