ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے
جو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھے
خیریت بھی مری معلوم نہیں کرتے ہیں
اسقدر لوگ پریشان سمجھتے ہیں مجھے
شہر سے آؤ تو آنے کا سبب پوچھتے ہیں
گاؤں کے لوگ بھی مہمان سمجھتے ہیں مجھے
اس لئے میری خوشامد نہیں کرتا کوئی
سب منانا بہت آسان سمجھتے ہیں مجھے
میں ہوں فنکار تو فنکار ہی سمجھا جائے
آپ کیوں ہندو مسلمان سمجھتے ہیں مجھے
میں نے ہر زخم پہ مرہم کی نمائش کی ہے
جانے کیوں لوگ نمکدان سمجھتے ہیں مجھے
لوگ کیا کہتے ہیں پرواہ نہیں ہے عالمؔ
اتنا کافی ہے کہ انسان سمجھتے ہیں مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






