اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے
Poet: آلوک شریواستو By: مصدق رفیق, Karachiاگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے
طواف کرتا ہوا موسم بہار چلے
لگا کے وقت کو ٹھوکر جو خاکسار چلے
یقیں کے قافلے ہم راہ بے شمار چلے
نوازنا ہے تو پھر اس طرح نواز مجھے
کہ میرے بعد مرا ذکر بار بار چلے
یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے
یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے
یہ جگنوؤں سے بھرا آسماں جہاں تک ہے
وہاں تلک تری نظروں کا اقتدار چلے
یہی تو ایک تمنا ہے اس مسافر کی
جو تم نہیں تو سفر میں تمہارا پیار چلے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






