اگر تم سنتے
Poet: عظمیٰ منصور By: عظمیٰ منصور, Srinagarتم اگر سنتے تو میں کہتی ، مجھے کچھ اور کہنا تھا
تم چند لمحوں کو جو ٹھہر جاتے، مجھے جی بھر کے دیکھنا تھا
اختیار جتنا تھا اُس سے زیادہ محبت کی تجھ کو
مجھے کچھ اور کرنا تھا، مجھے کچھ اور کہنا تھا
کبھی جو آنکھوں سے اشک گرے تری ہی یاد میں گرتے ہے
تم اگر گور سے دیکھو ان میں عکس تمہارا ہے
یہ میرا دل جو دڑکتا ہے، تیرے نام سے دڑکتا ہے
کبھی فرصت ملے تو سن لینا میری بر درکن تیرا ہی نام لیتی ہیں
تجھے میری باتوں پہ اعتبار نہیں ورنہ
تم اگر سنتے تو میں کہتی، مجھے کچھ اور کہنا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






