اک شام میرے بھی نام کر
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, sargodhaاک شام میرے بھی نام کر
محبت سے اپنی مجھے بھی ہمکنار کر
بند دریچے تو کھول دیے
روشنی کا تواستقبال کر
زلفوں کو میری بکھر کر
توآنکھوں سے اظہار کر
میں کھو جاؤں تیری آواز کے طلسم میں
کچھ اسطرح مجھ سے ہمکلام ہو
کوئ میٹھا جملا بول کر
ڈھڑکنوں کو میری بے حال کر
پھر کبھی مدھم نہ ہو
مجھے ایسا روپ عطا کر
تیری چاہت سےجو کھل اٹھے
مجھے ایسا سنگھار عطا کر
بھول جاؤں میں سب کچھ
کوئ ایسا سدباب کر
میری چاہتوں کو قبول کر
میری خواہشوں کا احترام کر
اک شام میرے بھی نام کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






