اک بات میری مانو
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreسنو
اک بات میری مانو
کچھ خواب میرے چنُ لو
اُنھیں حقیقت میں بدل دو
ہاتھوں کی لکیروں سے
تقدیر کی تحریروں سے
مجھ کو تم چرُا لو
سانسوں میں چھپا لو
اک بات میری مانو
دل تم پہ فریفتہ ھے
یہ جاں تم پہ واری
کوئ عہد تم بھی کر دو
اک احسان کر دو
اک بات میری مانو
جو سنگ سنگ چلو تم
خار راہ بھی مخملی ھو
دل ناداں کی کوئ تو
ڈھارس بندھی ھو
میرے ھمدم
میرے ساتھی
اک بات میری مانو
حالات کی قسموں سے
زمانے کی رسموں سے
اک بار مجھے چرُا لو
مجھے زندگی بنا لو
اک بات میری مانو
اک بات میری مانو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






