اک اک ادا تھی قہر کے تیور لئے ہوئے
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi اک اک ادا تھی قہر کے تیور لئے ہوئے
نکلے جو وہ حجاب سے خنجر لئے ہوئے
ہم لے اڑے ہیں ان کی جھلک اک نگاہ میں
بیٹھے رہیں نقاب وہ رخ پر لئے ہوئے
ان کا جمال ناز ہے خنجر در آستیں
ان کی شمییم زلف ہے نشتر لئے ہوئے
ڈسنے لگی ہے اب شب فرقت کی تیرگی
آ جاؤ صبح روئے منور لئے ہوئے
ہر گام پر ہے اک نئی الجھن کا سامنا
ہم آئے ہیں عجیب مقدر لئے ہوئے
جس دم چمن میں آئے وہ بن کر عروس ناز
حاضر ہوئی بہار، گل تر لئے ہوئے
دیکھے تو کوئی ان کی یہ طفلانہ دھمکیاں
مجھ کو ڈرا رہے ہیں وہ خنجر لئے ہوئے
اس کے طفیل بخش دے یارب ! نصیر کو
پہنچا جو کربلا میں بہتر لئے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






