اک اور غزل کہہ لیتے ہیں اک اور فسانہ بن جائے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاک اور غزل لکھ لیتے ہیں اک اور فسانہ ہو جائے
ادراک کی سونی وادی کا موسم تو سہانا ہو جائے
جو ہونٹ کبھی نہ کہہ پائے وہ پھول نے آخر کہہ ڈالا
اب پھول کو ڈر ہے وحشت میں ٹہنی سے جدا نہ ہو جائے
میں بیچ کھڑا ہوں نظروں کی انگار فشانی میں تب تک
الفاظ کی حرمت کا جب تک ہر قرض ادا نہ ہو جائے
ہاتھوں کی لکیروں میں ابتک وہ نقش سجائے بیٹھے ہیں
اب دھیرے سے آ جاؤ ناں ۔ تقدیر خفا نہ ہو جائے
یہ راہ وفا کا قصہ ہے اس راہ پہ چلنے والوں کا
ہر روپ بکھر کر ساز بنے ہر لفظ ترانہ ہو جائے
اس آنکھ کی پرنم وادی میں کچھ خواب بھرے ہیں رنگوں کے
ان رنگوں میں ڈھلتے ڈھلتے یہ عمر قضا نہ ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






