اپنی آنکھوں کو کبھی سوگوار مت کرنا
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, GUJRATسارے ہی شہر کو سوگوار مت کرنا
اے دوست رختِ سفر اختیار مت کرنا
وہ میرا نام دعاؤں میں لکھ رہا ہو گا
اس سے کہنا میرا انتظار مت کرنا
دل یہ کہتا ہے کہ وہ لوٹ آئے گا
دل کا مگر تو کبھی بھی اعتبار مت کرنا
طوفان کیسے بھی اٹھیں دیپ جلائے رکھنا
اپنی آنکھوں کو کبھی سوگوار مت کرنا
لوگ اپناتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں
اے دل کبھی کسی سے بھی پیار مت کرنا
میرے سب خواب میری زندگی کے ضامن ہیں
میں جو غافل ہوں مجھے بیدار مت کرنا
تیرے ہمسائے بھی سورج کے تمنائی ہیں
تم اپنے گھر میں اونچی دیوار مت کرنا
کہہ رہی ہے ہم سے صبحِ نو بہار مظہر
بدل جاتے ہیں دن جی کو بے زار مت کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







