اپنی آنکھوں میں کہیں مجھکو بسا لو اب تو
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiاپنی آنکھوں میں کہیں مجھکو بسا لو اب تو
صفحہءِ دل پہ میرا نام سجا لو اب تو
جو گھٹا زلف کی چہرے پہ ہے پھیلی تیرے
اپنی انگلی سے اسے پیچھے ہٹا لو اب تو
لذتِ عشق سے محروم نہیں کر مجھکو
میری بانہوں میں کبھی خود کو بسا لو اب تو
تو بھی سجدوں میں بڑے عجز سے لفظوں میں مجھے
اپنے ہونٹوں سے کبھی مثلِ دعا لو اب تو
ہے میری روح میں ترا عشق، میری خاک میں عشق
تم اس ہی خاک کا اک محل بنا لو اب تو
کب تلک عشق میں رسوا یونہی ہوگے احسن
گریباں سی بھی چکو، صاف قبا لو اب تو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






