اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکا لیں ہم
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiچلو کچھ خاب پھر سے اپنی آنکھوں میں سجا لیں ہم
تمہارا خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بسا لیں ہم
کئی وعدے ابھی باقی ہیں جو ہم کو نبھانے ہیں
ابھی بھی وقت ہے ساری وفاؤں کو نبھا لیں ہم
بہت رنجور ہیں لیکن کبھی یہ ہو نہیں سکتا
ترے آگے ہو کے مجبور سر اپنا جھکا لیں ہم
بتا یوں دور رہنے کا ملے گا کب صلہ ہم کو
چلو جو درمیاں ہے فاصلہ اس کو مٹا لیں ہم
سیاہی پھیلتی جاتی ہے تیزی سے زمانے میں
اٹھو تاریک راتوں سے کوئی سورج نکا لیں ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






