ان کی محفل ہے ، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi ان کی محفل ہے ، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
اے دل داد طلب ! رقص میں آ اور بھی کچھ
خون آنکھوں سے بہانا ہے پرانا کرتب
شعبدے ان کو ذرا کھل کے دکھا اور بھی کچھ
جب بھی دیکھوں، مجھے دشنام دیا کرتے ہو
بات آتی ہے تمھیں اس کے سوا اور بھی کچھ ؟
صرف پھولوں کی صباحت پہ نہیں میری نظر
کہہ گئی ہے مرے کانوں میں صبا اور بھی کچھ
مجھ کو تسلیم تری سحر بیانی قاصد
صرف باتیں نہ بنا ، کام دکھا اور بھی کچھ
آگ دب جائے ، ذرا سینے میں ٹھنڈک تو پڑے
مجھے کہہ لیجئے سرکار ! برا اور بھی کچھ
سادگی تو مرے رہزن کی یہ دیکھے کوئی
لوٹ کر پوچھ رہا ہے کہ بچا اور بھی کچھ ؟
عام لوگوں کی زباں پر شہ خوباں ہی نہیں
کہہ رہی ہے تجھے مخلوق خدا اور بھی کچھ
جب بھی ساقی نے مجھے پوچھ لیا ہنس کے نصیر
چوم کر جام وہیں میں نے کہا اور بھی کچھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






