ان سےہم پیار کا اطہار کئے جاتے ہیں
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow ھماری ویب کے سبھی دوستوں کو عید ا لفطر کی تہہ دل سے مبارکباد
ان سے ہم پیار کا اظہار کئے جاتے ہیں
اور وہ ہیں کہ بس انکار کئے جاتے ہیں
ہم جو رسوا سر بازار کئے جاتے ہیں
تیری خاطر ہی مرے یار کئے جاتے ہیں
ہے ستم آپ کا انداز مگر اتنے ستم
ہم پہ ہی کیوں مرے سرکارکئے جاتے ہیں
ملکہ حسن ہوئی شان میں کیا گستاخی
کس لئے حاضر دربار کئے جاتے ہیں
بے رخی ٹھیک ہے پر غیر سی ہنس کر باتیں
آپ تو ساری حدیں پار کئے جاتے ہیں
حسن غصے میں ہے چپ رہنا ہی بہترہے حسن
آپ بیکار ہی تکرار کئے جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






