انہیں آتا ہے بس انکار کرنا
Poet: ابن مفتی - سید ایاز مفتی By: ابن مفتی - سید ایاز مفتی , Houston TX USAانہیں آتا ہے بس انکار کرنا
ہمیں آتا نہیں اظہار کرنا
تمہیں تو جیسے ضد سی ہوگئی ہے
ہماری زندگی دشوار کرنا
گھڑا ہے ہاتھ میں اور جارہی ہوں
اسے کہتے ہیں دریا پار کرنا
نبٹنے جا رہا ہوں زندگی سے
زرا رخت ِ سفرتیار کرنا
اسے سینچا ہے میں نے اپنے خوں سے
نہ رشتوں کا محل مسمار کرنا
یہ اک دو کام تم کو آگئے ہیں
مجھے مشکل سے بس دوچار کرنا
ہمارے شیخ کے ذمے لگا ہے
مسلماں دین سے بیزار کرنا
لگا دی پھر سے قیمت زندگی کی
تمہیں تو آگیا بیوپار کرنا
نہ ہم سہہ پائیں گے انکار صاحب
خدارا سیکھ لو اقرار کرنا
اداکاری تو کرنی ہی نہیں ہے
ادا یوں تم کو ہے کردار کرنا
اڑائی ہے یہ مفتی نے ہوائی
بہت بیکار ہے "یہ پیار کرنا "
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






