امشب غمِ کو پائے کئی سال ہوگئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامغموم سے ہی ہو ئے کئی سال ہوگئے
امشب غمِ کو پائے کئی سال ہوگئے
چمکا تمہاری یاد سے جب دل کا آئینہ
ہر راستے میں آئے کئی سال ہوگئے
اک شخص میری آنکھ میں ٹھہرا رہا مگر
دیکھا جو آزمائے کئی سال ہوگئے
یہ زندگی اٹھا کے اڑوں آسمان تک
ہمت کو اڑائے کئی سال ہوگئے
سوچا تھا میں گزار لوں شہرِ زمین پر
دنیا کو نہ بھائے کئی سال ہوگئے
مرتے تھے جب فراق میں وہ دن نہیں رہے
تم جان جان آئے کئی سال ہوگئے
دنیا کے سارے رشتے ، رواجوں کو توڑ کر
وشمہ جی جو نبھائے کئی سال ہوگئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






