اقرار میں چھپا ہوا انکار دیکھ کر
Poet: Tasdiq Ahmed Khan By: Tasdiq Ahmed Khan , Ajmerاقرار میں چھپا ہوا انکار دیکھ کر
دل ڈر رہا ہے تیورَ دلدار دیکھ کر
دل کی خطا ہے اور نشانہ جگر پہ ہے
تیر َ نظر چلاءیے سرکار دیکھ کر
دیدار کی جو آس تھی کافور ہو گھی
رخ پر پڑی نقاب کی دیوار دیکھ کر
مت کیجیے یقین حسیں شکل پر کبھی
کیجئے ہمیشہ دوستی معیار دیکھ کر
کرفیو میں گھر غریبوں کے لٹتے ہی ہیں حضور
حیران کیوں ہیں. آج کا اخبار دیکھ کر
اگلا نشانہ تو ہی ہے دہشت پسند کا
ہنس لے تو خوب گھر میرا مسمار دیکھ کر
تصدیق جن عزیزوں پہ تھا تم کو اعتماد
کترا رہے ہیں وہ تمہیں نادار دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






