اس پری کی طرح
Poet: عادل شاہ By: عادل شاہ, Bagalkotچمک رہی ہے جو آنکھوں میں روشنی کی طرح
وہ دل پہ چھائی ہوئی ہے کسی پری کی طرح
ہے اس کا حسن سراپا بہار کے جیسا
وہ مسکرا رہی ہے گنگناتی ندی کی طرح
لگا کے دل کو سجاتی ہے خواب کے جالے
چھپی ہوئی ہے خیالوں میں چاندنی کی طرح
خدا نے رنگ بھرے ہیں نقوش میں اس کے
بنی ہے وہ بھی کہانی کسی کہانی کی طرح
قدم جو رکھتی ہے دھرتی پہ، گونج اٹھتی ہے
کہ جیسے ساز بجے کوئی راگنی کی طرح
وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملا تھا تو مجھ سے
ابھی بھی زندہ ہے دل میں کسی صدی کی طرح
نگاہ ڈالے جو پل بھر وہ میری جانب بھی
سمیٹ لوں میں وہ لمحہ کسی خوشی کی طرح
ملے نہ اس کا بدل، یہ نصیب کہتا ہے
نہیں ہے کوئی بھی عادلؔ اس پری کی طرح
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






