اس نے ہاتھوں میں جب لے لیا آئنہ
Poet: شہباز By: شہباز, Karachiاس نے ہاتھوں میں جب لے لیا آئنہ
سامنے آئنے کے ہوا آئنہ
ان کے دست ہنر کا یہ اعجاز ہے
ایک پتھر تھا میں ہو گیا آئنہ
آئنے کی طرف سے وہ گزرے تھے بس
دیر تک ان کو تکتا رہا آئنہ
حسن پر اس کو اپنے تھا اتنا گماں
زندگی بھر بدلتا رہا آئنہ
حال دل اس پہ یوں منکشف ہو گیا
میرا چہرہ ہی جب ہو گیا آئنہ
زندگی کا یہی ان کی عنوان ہے
آئنہ آئنہ آئنہ آئنہ
جھوٹ کو جھوٹ سچ کو جو سچ کہہ دیا
سنگ باری کی زد میں رہا آئنہ
جو اٹھاتے ہیں تم پر سدا انگلیاں
تم بھی ان کو دکھا دو ذرا آئنہ
عشق و الفت کی دانشؔ یہ معراج ہے
میں ترا آئنہ تو مرا آئنہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






