اس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
عشقِ بے مہرکی نذرسب کر دیکھا ہے
آگ کا دریا ہےکہیں کانٹوں بھری راہیں
ہررستہ ہی الفت کا پُر خارو خطر دیکھاہے
خزاں چھین لیتی ہے جیسے گلستاں کے رنگ
ہنستے ہوئے چہروں کو یوں چشمِ تر دیکھا ہے
کسی اور ٹھکانے پر اب دل ہی نہیں لگتا ہے
گستاخ نگاہوں نے جب سے تیرا در دیکھا ہے
زمانے بھر سے الجھتا رہا ہوں میں تن تنہا
ہرشخص کے ہاتھوں میں پتھر دیکھا ہے
تیری موجوں کے طلاطم سے اب ڈرنہیں لگتا
اے سمندر میں نے تیرا ہر بھنور دیکھا ہے
تیرے غم نے میرے فن کو جِلا بخشی ہے
میں نے جاگتی آنکھوں خود کو سُخن ور دیکھا ہے
گر ہو سکے تو میرا تماشہ ء قہر بھی دیکھو
اے ستم گر تونے میرا صبر دیکھا ہے
وصال ِ یار کی نہ اک لمحہ کبھی نوبت آئی
زندگی میں کچھ دیکھا ہےتو ہجر دیکھا ہے
عشق نے یہ معجزہ بھی دکھایا ہے رضا
نگاہ ِ یارمیں عقیدت کو منور دیکھا ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






